تمہید: ایمان کے چھ بنیادی ارکان میں سے ایک اہم رکن فرشتوں پر ایمان ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ، اس کے رسولوں، کتابوں، آخرت اور تقدیر پر ایمان لانا ضروری ہے، اسی طرح فرشتوں کے وجود پر یقین رکھنا بھی ایمانِ کامل کا لازمی حصہ ہے۔ فرشتوں پر ایمان کے بغیر مسلمان کا ایمان مکمل نہیں ہوتا۔
فرشتوں کی حقیقت
فرشتے اللہ
تعالیٰ کی وہ مخلوق ہیں جنہیں نور (روشنی( سے پیدا کیا
گیا ہے۔ ان کے جسم لطیف ہوتے ہیں، وہ کھاتے پیتے نہیں، سوتے نہیں، اور گناہ یا
نافرمانی نہیں کرتے۔ ان کی فطرت میں اطاعت و فرمانبرداری رچی بسی ہے۔
اللہ تعالیٰ
قرآن میں فرماتا ہے:
"لَا
یَعْصُونَ اللّٰهَ مَا أَمَرَهُمْ وَیَفْعَلُونَ مَا یُؤْمَرُونَ"
)التحریم: 6(
یعنی:
"وہ اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے، اور وہی کرتے
ہیں جو انہیں حکم دیا جاتا ہے۔"
فرشتوں پر ایمان لانے کا مفہوم
فرشتوں پر
ایمان لانے کا مطلب صرف ان کے وجود کو مان لینا نہیں بلکہ یہ یقین رکھنا ہے کہ:
- فرشتے اللہ کی مخلوق ہیں۔
- وہ اللہ کے حکم سے مختلف کام سرانجام دیتے ہیں۔
- ان کی تعداد بہت زیادہ ہے، جنہیں ہم نہیں جانتے ان
پر بھی ایمان لانا لازم ہے۔
- ان کے مخصوص فرائض و ذمہ داریاں ہیں جنہیں وہ کبھی
ترک نہیں کرتے۔
فرشتوں کے اہم نام اور ذمہ داریاں
قرآن و سنت
میں کئی فرشتوں کے نام اور ذمہ داریاں بیان ہوئی ہیں:
- حضرت جبرائیلؑ – وحی لانے پر مامور۔
)ان کا کام اللہ کا پیغام انبیاء تک پہنچانا ہے۔( - حضرت میکائیلؑ – بارش اور رزق کی تقسیم پر مقرر۔
- حضرت اسرافیلؑ – قیامت کے دن صور پھونکنے پر مامور۔
- حضرت عزرائیلؑ (ملک الموت( – روح قبض کرنے کے ذمہ دار۔
- کراماً کاتبین – انسان کے اعمال لکھنے والے فرشتے، ایک دائیں اور
ایک بائیں۔
- منکر و نکیر – قبر میں سوال کرنے والے فرشتے۔
- مالک – دوزخ کا
نگہبان۔
- رضوان – جنت کا دربان۔
فرشتوں پر ایمان کے فوائد
فرشتوں پر
ایمان لانے سے انسان کے دل میں کئی مثبت تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں:
- اللہ سے قربت میں اضافہ ہوتا
ہے کیونکہ فرشتے اس کی اطاعت میں مصروف ہیں۔
- اعمال میں احتیاط پیدا ہوتی ہے، کیونکہ انسان
جانتا ہے کہ اس کے ہر عمل کو فرشتے لکھ رہے ہیں۔
- ایمان میں استحکام آتا ہے، کیونکہ فرشتوں کا نظام
اللہ کی قدرت کی نشانی ہے۔
- آخرت کی تیاری میں مدد ملتی ہے، کیونکہ قبر
اور قیامت کے مراحل میں فرشتوں کا کردار نمایاں ہے۔
فرشتوں کا انکار – کفر ہے
جو شخص
فرشتوں کے وجود یا ان کی ذمہ داریوں کا انکار کرے، وہ ایمان سے خارج ہو جاتا ہے۔
قرآن کریم میں فرمایا گیا ہے:
"وَمَن
یَكْفُرْ بِاللّٰهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ
فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِیدًا"
)النساء: 136(
یعنی:
"جو اللہ، اس کے فرشتوں، کتابوں، رسولوں اور آخرت کے دن کا انکار کرے وہ سخت
گمراہی میں پڑ گیا۔"
نتیجہ
فرشتوں پر
ایمان ایک روحانی حقیقت ہے جو مومن کے دل میں اللہ کی عظمت، خوف اور محبت
کو بڑھاتی ہے۔ فرشتے اللہ کے نظام کا حصہ ہیں، ان پر ایمان لانا ایمانِ کامل کی
علامت ہے۔ ایک سچا مسلمان ہمیشہ یہ یقین رکھتا ہے کہ اللہ کے فرشتے ہر لمحہ اس کے
ساتھ موجود ہیں اور وہ اللہ کے حکم سے اس کے اعمال کا حساب لکھ رہے ہیں۔
English